
ایک دوست کے مشورے پر کچھ عرصہ پہلے ممتاز مفتی کی کتاب ‘تلاش’ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
اس میں ایک باب میں ذکر کیا گیا تھا کہ ہم کس طرح ہر چیز کو احترام کی چادر سے لپیٹ کر ناقابلِ رسائی بنا دیتے ہیں۔ پھر وہ اچھے انسان ہوں، بزرگانِ دین یا رہنمائی کی کتابیں، ہم انہیں قابلِ تقلید کے بجائے صرف قابلِ احترام کا درجہ دے کر اپنے سے کوسوں دور کر لیتے ہیں۔
ایسے ہی احترام کا ذکر کرتے ہوئے ممتاز مفتی بزرگانِ دین کے متعلق کچھ تذکروں(کتابوں) کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
‘ان میں تین بات نمایاں تھیں۔
- ایک توسرکار قبلہ تھے جو احترام کے گاڑھے شیرے میں بری طرح سے لت پت تھے۔اس حد تک کہ انسانی خدوخال نظر نہیں آتے تھے۔
- وہ انسان نہیں لگتے تھے۔جیسے کوئی اور مخلوق ہوں۔ فرشتے اور انسان کی درمیان کی مخلوق۔
- کسی تذکرے میں صاحب تذکرہ کے اعلیٰ کردار کی بات نہ کی گئی تھی۔ صرف کرامات تھیں۔ کرامات ہی کرامات جیسے وہ جادوگر ہوں۔ کوشش کی گئی تھی کی صاحب تذکرہ کو سپر مین کی حیثیت سے پیش کیا جائے.
جہاں تک مجھے علم ہے، اسلام میں سپر مین نہیں ہوتا۔ اسلام میں بشریت کا درجہ بہت بلند ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ مسلمان ایک کردار ہے جو اللہ کے احکامات پر عمل کرنے سے وجود میں آتا ہے۔’
پھر ممتاز مفتی احترام کے متعلق مزید بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘ماں بچوں کو باپ سے ڈراتی ہے۔ باپ سمجھتا ہے کہ میرا احترام ہو رہا ہے۔ ایسے ہی جذبہ احترام سے سرشار مسلمانوں نے قرآن کریم کو جزدانوں میں بند کر دیا۔ قرآن کو بت بنا کر الماریوں میں مقفل کر دیا۔
ہمارا جذبہ احترام اتنا سفاک ہو چکا ہے کہ
ہمیں قرآن پڑھنے نہیں دیتا۔
باپ سے محبت کرنے نہیں دیتا۔
صوفیاء کرام کو انسان سمجھنے نہیں دیتا۔’
اس کتاب کو پڑھنے سے مجھے احترام کے کئی زاویوں پر سوچنے کا موقع ملا۔ ہماری سوسائٹی میں احترام کی ایک خاص جگہ ہے جو کہ ہونی بھی چاہیے اور جو کہ بذاتِ خود مجھے بہت عزیز ہے۔ لیکن جیسے کہ ممتاز مفتی نے بیان کیا۔۔۔کیا آپ کو یہ نہیں لگتا کہ ہم نے اس احترام کو وہ جگہ دے دی ہے جہاں پر ہم آنکھیں بند کر کے احتراماً کھڑے تو ہو جاتے ہیں لیکن دیے گئے سبق سے بے بہرہ رہتے ہیں۔ کیا ہم احترام کی رسموں میں اس قدر آگے نہیں بڑھ جاتے کہ ہمیں اپنی اصلاح کا وقت ہی نہیں مل پاتا۔
(تحریر : سحر سید)





